آئی ایم ایف پر ’بڑا‘ سائبر حملہ

آئی ایم ایف پر ’بڑا‘ سائبر حملہ

آئی ایم ایف جس کے پاس کئی ملکوں کے بارے میں حساس نوعیت کا معاشی ڈیٹا ہوتا ہے

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس کے نیٹ ورک کو ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے حکام نے اگرچہ حملے کے بارے میں بہت کم تفصیلات جاری کی ہیں لیکن نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس سال کے شروع میں ہونے والا حملہ ادارے کے سسٹم میں ایک بہت بڑا رخنہ تھا۔

سائبر سکیورٹی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد آئی ایم ایف کے سسٹم میں ایک ایسا سوفٹ ویئر انسٹال کرنا تھا جس سے وہاں ڈیجیٹل موجودگی قائم رکھی جا سکتی ہے۔

آئی ایم ایف جس کے پاس کئی ملکوں کے بارے میں حساس نوعیت کا معاشی ڈیٹا ہوتا ہے کا کہنا ہے کہ اس کے آپریشنز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سائبر حملہ کئی ماہ تک جاری رہا اور یہ ادارے کے سابق سربراہ ڈومینِک سٹراس کاہن کی گرفتاری سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔

آئی ایم ایف کے ترجمان ڈیوڈ ہاؤلی نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ادارہ اس واقعے کی تفتیش کر رہا ہے۔ ’میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ سائبر سکیورٹی کے اس واقعے کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہہ سکوں۔‘

نیویارک ٹائمز کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے عملے کو اس حملے کے بارے میں بدھ کے روز ایک ای میل کے ذریعے بتایا گیا لیکن ادارے نے اس بارے میں کوئی عام بیان جاری نہیں کیا۔

ایم میں خبردار کیا گیا ہے کہ حملے کے دوران فائلوں کی مشتبہ منتقلی کو نوٹ کیا گیا ہے اور اس بارے میں ہونے والی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ ادارے کے ڈیسک ٹاپ تک رسائی حاصل کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعے فنڈ کے سسٹم میں گھسا جا سکے۔

عالمی بینک نے احتیاطی تدابیر کے طور پر فنڈ کے نیٹ ورک سے اپنا رابطہ منقطع کر لیا ہے۔

بی بی سی اردو سروس

اپنا تبصرہ بھیجیں