انسداد دہشتگردی : حکومت پاکستان کا جی میل ، یا ہو ، ہاٹ میل کے ساتھ یو ٹیوب تک رسائی کا مطالبہ

حکومت پاکستان نے انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ دہشت گردی اور دیگر جرائم سے نمٹنے کے لئے حکومت کو جی میل ، یاہو ، ہاٹ میل کی معلومات تک فوری اور آسان رسائی فراہم کی جائے۔اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے پاکستانی عدالتوں کے حکم نامے بھی پیش کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے وزیر داخلہ پاکستان رحمان ملک نے انٹرپول کے چیف کو ایک خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا ہے کہ گوگل، یا ہو ، ہاٹ میل اور یو ٹیوب جیسے عالمی اداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ پاکستانی عدالتوں کے احکام پر عمل کریں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اکثر یہ کمپنیاں یا تو جواب ہی نہیں دیتیں یا پھر امریکی عدالت کا حکم نامہ طلب کرتی ہیں۔ حکومت کا اس بات پر یقین ہے کہ حساس معلومات کی نقل و حمل کے لئے طالبان اوردوسرے دہشت گرد ای میل کا استعمال کرتے ہیں۔ حال ہی میں پی ٹی اے کی جانب سے محفوظ وی پی این یا کسی بھی دوسرے محفوظ انٹرنیٹ کے نظام کو کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔حکومت کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے اپ ڈیٹ:ایکسپرس ٹرائیبون کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں رحمان ملک نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ گوگل اور یوٹیوب حکومت کی مدد نہیں کر رہے۔ The Interior Minister who was talking to media men at the FIA headquarters on Saturday urged the internet service providers to extend their help to the government for exterminating the menace of terrorism from the country. Nike Air Max 90 Homme adidas ace rose

  • KOBE 11
  • Troy Polamalu – USC Trojans nike air max 2016 kopen Talking to mediamen here at FIA headquarters, Nike Free Run 5.0 femme Nike Zoom Goedkoop Fjallraven Kanken Classic

    Maglie Cleveland Cavaliers New Balance 990 męskie he said the government would be compelled to block certain internet service provider’s sites, Nike Free Run 5.0 homme asics tiger mujer Canotta NCAA

  • ULTRA BOOST Uncaged
  • Hogan Uomo Prezzi 2017 if they did not extend cooperation to the government. Nike Air Max BW Femme Jason Heyward Jersey Women Air Jordan 7 Running Asics Sneakers Nike Air Max Norge Nettbutikk Sko Malik said that Taliban and other terrorist organisations were sharing intelligence through internet and curbing these activities was imperative.

    اپنا تبصرہ بھیجیں