جانے کب ہوں گی کم ۔۔۔۔۔ نفرتیں

جانے کب ہوں گی کم ۔۔۔۔۔ نفرتیں
نفرت لفظ یوں تو چار حروف پر مشتمل ہے جیسے محبت مگر یہ چار حروف کی ہی ساری کہانی ہے جو اس کائنات میں چل رہی ہے۔ جیسے نام اللہ میں حروف چار ہیں تو نام محمد میں بھی چار حروف ہیں۔آج بات ہو گی ان چار لفظوں محبت و نفرت کی۔
ہمارے معاشرے میں محبت سے زیادہ نفرتیں کیوں پنپ رہی ہیں؟ ہمارا تو دین اسلام بھی ہمیں محبت کا درس دیتا ہے۔ پھر یہ نفرتیں کدھر سے اور کیوں ہماری زندگیوں میں در آتی ہیں؟

hate-system
معاشرے میں عدل و انصاف اور مساوات دو بنیادی بیج ہیں۔ جن کی بڑھوتری کے ساتھ ہی معاشرے میں محبت و نفرت بھی پروان چڑھتی ہے۔ اگر تو معاشرے میں مساوات قائم ہے عدل و انصاف ہے تو محبتیں بڑھیں گی۔ اور اگر معاشرے میں عدل و انصاف اور مساوات کا فقدان ہو گا تو نفرتیں
کدورتیں ہمارے دلوں میں راج کریں گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میری اردو گرد نا انصافی اور مساواتی تفاوت ہو اور میں اردو گرد خوشیاں اور محبتیں ملیں۔
ہماری معاشرتی بنیادیں ہی نفرت سے رکھی جاتی ہیں اور یہ نفرت کی بنیاد ہی پھر ایک بڑی عمارت بن کر ہمیں اپنے اندر مدفون کرتی جاتی ہے۔ اور اس پر دہشت گردی و نقص امن کے بھوت پریت ننگا ناچ ناچتے ہیں۔
کسی بھی قوم اور معاشرے کا مستقبل ، بچے ہوتے ہیں۔ اگر ان میں ہم نفرتوں کو پالنا شروع کر دیں گے تو وہ ہمیں مستقبل میں نفرتوں کی پیداوار ہی دیں گے۔ کیا کبھی ارباب اختیار نے یہ سوچا ان کی گاڑی کے ساتھ ساتھ سڑک پر پیدل چلنے والے بچے بھی اتنے ہی حقدار ہیں سہولتوں کے جتنے ان
کے اپنے بچے۔
جب میں اپنے بچوں کو اچھے کپڑے پہنا کر اور اچھے سکول میں لے کر جا رہا ہوتا ہوں۔ تو سڑک پر پیدل چل کر اس اچھے سکول کے ساتھ موجود سرکاری سکول میں جانے والے یہ بچے بھی تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کررہے ہوتے ہیں۔ میرے بچے تو صرف سفر کر رہے ہوتے ہیں جبکہ یہ پیدل
چلنے والے بچے موسم کی شدت اور سڑک کی اونچ نیچ کے ساتھ احساس کمتری کو بھی ساتھ لئے سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی بچے کے پاؤں میں ٹوٹی جوتی ہوتی ہے تو کسی بچے کے تن پر موجود لباس میں پیوند لگے ہوتے ہیں تو کسی کے بٹن ٹوٹے ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں بھی ایک کسک جنم لے رہی
ہوتی ہے کہ ہمیں اچھے کپڑے اور سواری کیوں نہیں ملی؟ ہمیں کتنی اتنی گرمی میں پیدل چلنا پڑ رہا ہے؟ ہمیں کیوں سردیوں میں ٹھٹرنا پڑ رہا ہے؟ ہمیں کیوں اچھا سکول میسر نہیں ہے؟ لیکن کبھی ہماری آنکھوں پر بندھی چکا چوند کی پٹی نے ان معصول چہروں پر لکھی یہ تحریریں پڑھنے کو ہمت ہی
نہیں دی۔ ہم اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو روشن حال دیکھ کر اپنے ضمیر کو سُلا دیتے ہیں سو جا تو سو جا ۔۔۔
جب یہی بچے کسی پارک میں یا گلی میں ملتے ہیں تو یہ دوسرے بچوں کے پاس موجود کھلونوں کو دیکھ کر ان کی طرف لپکتے ہیں تو یہی بڑے انہیں جھڑک دیتے ہیں ۔ پھر بچپن میں ہی ایک جارحانہ رویہ کی پرورش ان بد نصیب بچوں میں پیدا ہوجاتا ہے۔وہ چپکے سے یا سامنے سے ان کھلونوں کو توڑ کر یا چھیننے
کی کوشش کرتے ہیں ۔ چھیننے والے کے اندر جارحیت اور مایوسی پیدا ہوتی ہے تو جس سے چھینی جا رہی ہوتی ہے اس کے اندر خوف اور نفرت کی تہہ چڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔اور یہ بچے ایسی دیوار کو چُننا شروع کر دیتے ہیں جو معاشرے میں نفرت کے نام سے جانی جاتی ہے۔
تعلیمی سرگرمیاں ہوں یا صحت و رہائش تو ہمارے بچے تین مختلف درجات میں پل رہے ہیں ، جس میں ایک غریب طبقہ کے لئے ۔ اس کے بعد ایک درمیانہ طبقہ کے لئے اور تیسرا طبقہ اشرافیہ کا ہے۔
جب معاشرے کی اکائی ہی عدل و انصاف اور مساوات پر یقین نہیں رکھے گی اور اسے اپنے معاشرے پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں چاہے گی تو پھر کیسے ہم مجموعی طور پر معاشرے کی بہتر تعمیر کر سکتے ہیں۔ ہمارے منتخب و چُنے گئے حکمران ہمارے اوپر یہی معاشرہ مسلط رکھیں گے۔ اور یہ نظام تا وقت
قیامت قائم و دائم رہے گا۔ جب تک یہ طبقاتی کشمکش اور فرق رہے گا ہمارا معاشرہ اسی طرح نفرتوں سے بھرا رہے گا اور ہم اپنوں کے ہاتھوں ہی قتل ہوتے رہیں گے۔
ہمارا معاشرہ آج تاریخ کی بدترین سطح پر کھڑا ہے جس میں دہشت گردی اپنی عروج پر ہے اور یہ وہی مایوسیاں اور کسک ہیں جو ہمارے معاشرے کو پھولوں سے سرخ و سبز کرنے کی بجائے بم بارود سے سرخ و سیاہ کر رہی ہیں۔ ہ

Continue Reading

مجھے نہیں جانا۔۔ چائے والا

دوپہر کی تپتی دھوپ میں اسے کئی بار ننگے پاؤں اور جی باؤ جی جی باؤ جی کہتے سنا تھا۔

وہ اک چائے والے کے کھوکھے پر گاہکوں کی آواز پر لبیک کہہ رہا ہوتا تھا اور اس کی زبان سے کبھی انکار نامی لفظ  نہ نکلا تھا۔ اپنے کام میں مگن کسی گھاگ شخص کی طرح وہ اک مسکراہٹ چہرے پر جمائے سارا دن ادھر سے ادھر جاتے آتے نظر آتا تھا۔

ہم دوست کبھی شام کے بعد جب نکلتے تو اس کھوکھے پر کچھ پل رک کر چائے ضرور پیتے تھے۔ اور اس کی جی باؤ جی میں وہی تازگی اور مسکراہٹ ہوتی تھی جس سے وہ شاید کام کا آغاز کرتا تھا۔

tea-shop-boy-famous

اک صبح  میں گھر سے باہر کھڑے اک شخص سے محو کلام تھا کہ مجھے اک مانوس سے آواز سنائی دی جو آہستہ آہستی قریب ہوتی جا رہی تھی اور آج اس آواز میں کچھ تبدیلی سی تھی۔ اس آواز میں تازگی نہیں تھی روہانسی سی آواز تھی جو میرے کانوں کے پردوں سے کم میرے دماغ کے پردوں سے ایک نشتر کی طرح چبھی تھی۔

مجھے نہیں جانا۔۔۔۔

ابا مجھے نہیں جانا

ابا وہ مجھے بہت گندی گالیاں دیتا ہے

مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔۔

میں نے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور اس کا باپ اسے بازو دبوچے لئے چل رہا تھا اور اس کی میرے دماغ میں صرف اس کی ہی آواز پہنچ رہی تھی

مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔۔

ابا مجھے نہیں جانا

ابا وہ مجھے راڈ سے مارتا ہے۔

مجھے نہیں جانا وہاں

اور میں دم بخود اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا اور آنکھیں جیسی پتھرا سی گئی ہوں۔ اور دماغ میں ایک ہی لفظ بار بار ہتھوڑا چلا رہا تھا نہیں جانا۔

اب اس کا باپ اسے دبوچے میرے قریب سے گزر رہا تھا اب بھی وہ چلا رہا تھا مجھے نہیں جانا وہاں

ابا وہ مجھے بہت مارتا ہے، ابا

میں تھک جاتا ہوں وہاں ابا

میں بیٹھتا ہوں تو مجھے گالیاں دیتا ہے اور مجھ پر جوتے برساتا ہے

مجھے نہیں جانا وہاں ابا

ابا مجھے بھی سکول جانا ہے۔

ابا مجھے اس کی گالیاں نہیں پسند

ابا مجھے نہیں جانا

پھر مجھے ایک گلو گیر سی اجنبی سی آواز نے جیسے سکتے سے نکالا۔۔۔

پُتر ۔ تم کام دھیان سے کیا کرو

ابا مجھے نہیں جانا وہاں

پُتر تیری ماں بیمار ہے اس کی دوائی کا بھی خرچہ بہت ہے، پُتر توں کام دھیان سے کیا کر

ابا مجھے وپاں اچھا نہیں لگتا

ابا میں تھک جاتا ہوں۔

پُتر توں کام نئیں کریں گا تے کرایہ کتھوں دیواں گے

تیریاں بہناں دے کپڑے وی لینے نے ،

پُتر مینوں کل وی دیہاڑی نئیں لبی۔

اور انہی جوابوں نے اس کے بہت سے آنسوؤں کو سسکیوں  میں بدل دیا اور وہ چہرے پر بازو پھیرتے ہوئے  خود کو بوجھل قدموں سے اپنے باپ کے شانہ بشانہ چلنے پر آمادہ ہو گیا

 

 

Continue Reading

بستہ اور مسکراہٹ

سورج کی کرنیں زمین پر آنے کو بے قرار تھیں اور سکول میں بچے داخل ہونے کی آوازیں ہر سو پھیلی ہوئیں تھیں۔
وہ بھی بستے اٹھائے دونوں کے ساتھ سکول میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر افسردگی اور کسک کی ایک تہہ سی جمی ہوئی تھی۔ جبکہ دوسرے دونوں ماں کے ساتھ خوش و خرم اٹھکیلیاں کرتے ہوئے کمرہ جماعت میں داخل ہو گئے۔
سارا سال یہی روٹین ان کی زندگیوں میں رہی وہ افسردہ سا چہرہ لئے اور باقی دونوں مسکراتے اور اٹکیلیاں کرتے ہوئے کمرہ جماعت میں داخل ہوتے۔
پھر ایک دن اسے سکول سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ کیونکہ آج اس کے مالک کے دونوں بیٹے پاس ہو گئے تھے اور بستے نہیں اٹھانے پڑے تھے۔
# بستے # مسکراہٹ

Continue Reading

میری چشم تر ہوئی جب ۔۔۔

قدرت کی تخلیقات کا احاطہ آج تک نہیں کیا جا سکا ہے۔ اللہ تعالی نے انسانی دماغ کو آج تک علم کی بدولت جتنی وسعت دی ہے۔ آج کی تاریخ میں بہت کچھ جاننے کے باوجود کے انسان ابھی بھی کچھ نہیں جانتا ہر آنے والے دن نئی دریافتیں اور نئے اسرار و رموز سے واسطہ پڑتا ہے۔ قدرت کی سب سے حسین اور قیمتی تخلیق جاندار ہیں۔ جانداروں میں خدا نے ایک طرح سے اپنی کچھ صفات کو بھی منتقل کر دیا ہے۔جانداروں کی اگر مزید تخصیص کی جائے اور انسانوں پر غور کیا جائے تو اس میں آپ کو کافی خدائی صفات نظر آئیں گی۔ کچھ تو قدرتی ہوتی ہیں۔ جبکہ کچھ انسان اپنے اندر خود پیدا کرلیتا ہے۔

my-eyes-have-no-tears

قدرت نے انسان کے اندر ایک احساس کی ایسی صفت پیدا کر دی ہے جو اسے باقی تمام مخلوقات سے نمایاں کر دیتی ہے۔ احساس۔ پانچ حروف پر مشتمل یہ لفظ اپنے اندر بے پناہ وسعت رکھتا ہے۔ جیسے یہ کائنات کی وسعتیں کوئی ماپ نہیں سکا۔ ایسے ہی احساس کو سمیٹنا لا حاصل سعی ہے۔

احساس نامی لفظ کے ساتھ بہت سی کیفیات منسلک ہوتی ہیں۔ جس میں سے ایک کیفیت چشم تر ہے۔

چشم تر یعنی آنکھوں میں آنسو کا آنا یا آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا بھی ہے۔ انسان کبھی کبھار بار بار روتا  ہے اس بات کی نشانی ہوتی ہے۔ اسے جسمانی و زہنی کوئی مسئلہ یا بیماری ہے۔ اس کے علاوہ رونے کا عمل بے ساختہ ہوتا ہے۔  انسانی جسم کے اندر یک لخت ایسی تحریک پیدا ہوتی ہے جو انسان کو رونے پر مجبور کر دیتی ہے۔کئی دفعہ انسان اپنے روزہمرہ کے کاموں میں مگن ہوتا ہے۔ یا کسی خیال میں گم ہوتا ہے اورلا شعوری طور پر اس کے آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔یہ لاشعوری آنسوؤں کا بہنا احساسات کے مناسب بہاؤ اور اظہار کے نا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اگر آپ بھی کبھی ایسے ہی کسی موقع پر اپنی چشم تر کر چکے ہیں تو آج کا موضوع آپ کو اس بارے بہت سی معلومات دے گا۔

کیوں؟ میری چشم تر ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمومی طور پر یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ڈیپریشن میں  انسان رونے سے زیادہ ایسی کیفیت میں آجاتا ہے کہ وہ کوئی ردعمل نہیں دے پاتا ۔اس کے باوجود ڈیپریشن میں انسان کو زیادہ رونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

انسان اس وقت  لاشعوری طور پر رونا شروع ہو جاتا ہے جب وہ کسی بہت پیاری ہستی کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے یا اس کے بارے زکر کر رہا ہوتا ہے خواہ وہ زکر تنہائی میں ہو یا کسی مجمع میں۔

انسان کی آنکھ اس وقت بھی تر ہو جاتی ہے جب وہ کسی ایسی صورت حال میں ہوتا ہے کہ وہ دوسرے سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتے ہوئے کسی کم تر حالت میں دیکھتا ہے تو اس کی آنکھ بھرا جاتی ہے۔

انسانی چشم تر ہوتی ہے جب  کسی بہت انسیت یالگاؤ والی چیز کو اپنے ہاتھوں سے یا اپنے سامنے اس سے الگ ہونا پڑتا ہے۔

انسان کی آنکھ میں آنسو آجاتا ہے جب کسی بھی ایسی رشتے پر مصیبت آتی ہے جو اس کے بہت قریبی ہو۔

انسان رونے پر مجبور ہو جاتا ہے جب کسی قریبی رشتے کی شخصیت کو  ایک وقفہ کے بعد دوبارہ ملتا ہے تو آنکھیں بھرا جاتی ہیں۔

چشم تر ہو جاتی ہے جب کسی رشتے کو نا چاہتے ہوئے بھی ہمیں دوسرے کی بھلائی کے لئے ختم کرنا پڑتا ہے۔

انسانی آنکھ نم ہو جاتی ہے جب ہمیں کسی اپنے سے غیر متوقع موقع پر ساتھ مل جائے۔

آنکھ نم ہو جاتی ہے جب کسی اپنے کے  یقین کامل سے ہاتھ دھونا پڑ جائے۔

آنکھ نم ہو جاتی ہے جب کسی کے اعتبار کو توڑنے کے بعد اس کا سامنا کرنا پڑے۔

آنکھ نم ہو جاتی ہے جب کوئی جذبات کی قدر جان کر جواب دیتا ہے۔

آنکھ نم ہو جاتی ہے۔ جب کوئی اپنا بیچ رستے چھوڑ جاتا ہے۔

آنکھ نم ہو جاتی ہے جب کسی کے لئے  پیار بھرے جذبات ابھر آتے ہیں۔

انسانی زندگی میں اور بھی بہت سے ایسے مواقع آتے ہیں جب انسان بے اختیار اپنے اشک بہاتا ہے۔ کبھی وہ تنہائی شب میں بے اختیار رو پڑتا ہے تو کبھی یاد ماضی اسے رلا دیتا ہے۔

آنسو خوشی کے ہوں غم کے ہوتے ہیں اک جیسے

ان آنسوؤں کی کوئی پہچان نہیں ہوتی۔

Continue Reading

ہوس اقتدار اور قوم سے غداری

ملک پاکستان اللہ کی نعمت اور بے شمار غریب مسلمانوں کی قربانیوں سے 1947میں وجود میں آیا، چونکہ نئی نسل نے ان قربانیوں کو دیکھا نہیں تو انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہو گا، کہ وہ قربانیاں کیا تھیں، غریب مسلمانوں کی قربانیوں سے بننے والے ملک پر مخلص قائدین کی وفات کے بعد ہوس اقتدار اور مادہ پرست وڈیروں اور انگریز کے ذہنی و جسمانی غلاموں نے قبضہ جما لیا اور قوم سے نہ انہیں پہلے سروکار تھا اور ان اقتدار پر دوبارہ قابض ہونے کے بعد،انہی ذہنی و جسمانی غلاموں کی اگلی نسلوں نے اس غریب قوم کو تعلیم سے دور رکھا اور انہیں کبھی ان کے حقوق کا اندازہ ہی نہ ہونے دیا بلکہ انہیں روزی روٹی کی بیڑیوں میں ایسا جکڑا کہ وہ آج تک تنکوں کی طرح ان کی جلائی ہوئی آگ  میں جل رہے ہیں،ملک پاکستان میں کشمیر کی آزادی کے نام پر اور ایرانی انقلاب کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے ایسے جتھے بنائے گئے جنہیں جان دینے تک کے لئے تیار کیا گیا اور پھر ان سے وقتی طور پر خاطر خواہ نتائج بھی حاصل کئے، مگر ان سلگتی ہوئی لکڑیوں کو بجھانے کا انتظام کئے بغیر انہیں مشرف دور حکومت میں جنگل میں ایک طرف پھینک دیا گیا جہاں سے ان سلگتی لکڑیوں نے جنگل کی شادابی اور جانداروں کو جلانا شروع کر دیا،کیا اس وقت مشرف امریکہ بہادر کی پکار پر لبیک نہیں کہتا تو ہم آج جو ستر ہزار جانوں کی قربانی دینے کے بعد بھی امن  کے لئے ترس رہے ہیں، تو کیا لبیک نہ کہنے پر ہم پر بمباری سے اتنی جانیں ضائع کرتے؟ کیا اب تک ہمارے ملک میں چلتے پھرتے غداران وطن ایسے ہی ہماری جانوں سے کھیلتے رہتے؟،اگر مشرف اس وقت بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرتا اور امریکہ و اقوام عالم کو صاف جواب دیتا کہ کہ آپ گدھے سے گرے ہو تو، گدھے سے پوچھو کمہار پر نہ چڑھ دوڑو، اور ان کے مطالبات کو رد کر دیتا، تو ایک ایٹمی ملک ہونے کے ناطے دھمکی بھی دے دیتا ،کہ اگر ہم پر بمباری ہو گی اور ہمسایہ ممالک ہماری آواز کے ساتھ آواز نہیں اٹھائیں گے، جن میں ایران اور بھارت شامل ہیں تو ہم بمباری سے مرنے سے زیادہ سب کو ساتھ لے کر مرنا پسند کریں گے،اس کے جواب میں امریکہ بہادر اور اقوام عالم اقتصادی پابندیاں لگا دیتا۔ ملک میں غربت کی شرح بڑھ جاتی لوگوں میں خود کشیوں کے رجحان بڑھ جاتا،خیر وہ تو اب بھی ہے ،غربت میں اضافہ اور خود کشیوں کا رجحان تو اب بھی سر اٹھائے سامنے ہے۔

hawas-e-iqtadar
عالمی اقتصادی پابندیوں کے ہونے نہ ہونے سے کبھی بھی غریب کی زندگی پر اثر نہیں پڑا،کیونکہ یہ قرضے تو لئے جاتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت دینے کے لئے، یا اقتدار کے مزے لوٹنے کے لئے ،تا کہ جتنا سرمایہ ہو گا اس سے اتنی ہی عیاشی اور اتنے ہی میگا پراجیکٹ لگیں گے اور میگا کرپشن کر کے اپنے خزانے بھرے جا سکیں گے۔
حکومت میں آنا ہو یا جانے کا ڈر ہو ہم دشمنوں سے بھی مدد ملنے کو قابل اعتراض نہیں سمجھتے ہیں ہم اپنے لوگوں کو مروانا پسند کر لیتے ہیں مگر اقتدار کی راہداریوں کو چھوڑ کر قوم کا نہیں سوچتے، کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو یا وردی والی ، سب نے اس نشہ اقتدار میں بد مست ہاتھی کی طرح اپنی قوم کو روندا ہے۔خدارا اب بس کر دو اور کتنا خون بہائو گے ان غریبوں کا، خود تو جیمرز اور پروٹوکول میں حفاظتی حصاروں میں زندگی جی لیتے ہو اور غریب کے جان و مال سے آپ کو کیا ۔
جناب ایک امیر ترین غریب آدمی ایدھی بھی صرف کفن میں دفن ہوا ہے اور آپ کو بھی اللہ کفن تو کم از کم نصیب فرمائے۔ دعا ہی کر سکتا ہوں

Continue Reading

میں خدا کو نہیں مانتا!!!!!۔

Just Say No

میں نہیں مانتا خدا کو ۔۔۔یہ وہ فقرہ ہے جو مجھے جنت و جہنم کے درمیان کھڑا کرتا ہے۔ جس کو بولنے پر مجھے فتوی کفر سے نوازا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے مجھے دین اسلام سے خارج کیا جا سکتا ہے۔جس کی وجہ سے میرا نکاح فسق ہو سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرہ مجھے دھتکار سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے میری اپنے مجھے نفرت سے نواز سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے میری اولاد کو طعنے سننے پڑ سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مجھ پر ہر برائی کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ مجھ پر توہین کا الزام لگا کر جلایا جا سکتا ہے۔ مجھ پر بیچ رستے تشدد کیا جا سکتا ہے۔ میرے خاندان کو مصائب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہاں میں پھر سے کہتا ہوں میں خدا کو نہیں مانتا ہوں۔۔۔۔

جی جناب یہی سچ ہے میں اس خدا کو نہیں مانتا ہوں جس کو یہ مذہب کے ٹھیکیدار میرے سر سوار کرتے ہیں۔ میں اس خدا کو نہیں مانتا جس کی تعلیمات کا یہ پرچار کرتے ہیں۔ میں اس خدا کو نہیں مانتا جس کی یہ مانتا ہے ۔ میں اس خدا کو نہیں مانتا جس کی یہ مانتے ہوئے بے گناہوں کا خون بہانے کو معصوم زہنوں کو تیار کرتے ہیں۔ میں اس خدا کو نہیں مانتا جس کے معاملات ان کے سپرد ہو گئے ہیں اور یہ توہین و سزا کے فیصلے کر رہے ہیں۔

میں تو صرف اس خدا کو مانتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا جس نے مجھے اعلی تعلیمات پر مبنی کتاب قرآن بخشی جس نے رحمت للعالمین خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ہماری ہدایت کے لئے بھیجا ۔ جس نے امن و آشتی کا پرچار کیا اور بچوں بوڑھوں ، بے گناہوں کی ہلاکت اور فساد فی الارض سے منع کیا ہے۔  جس نے روز محشر ہم سب کا انصاف کرنا ہے۔

Continue Reading

بچوں کے تخیل کی پرواز کا ہمسفر(حصہ دوئم) ۔

بچوں کے تخیل کی پرواز کا ہمسفر حصہ اول میں ہم نے دیکھا کہ کیا بچہ پیدا ہوتے ہی سوچتا ہے یا اس کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان خیالات اور سوچ میں پہلا ہمسفر کون ہوتا ہے۔ لہذا اس حصہ میں ہم اس بات کو دیکھیں گے کہ بچوں کے تخیل کی پرواز میں دوسرا ہمسفر کون ہوتا ہے جو عمر کی بڑھوتری کے ساتھ اس کے خیالات اور سوچ اور پر حاوی ہوتا ہے۔

بچوں کے تخیل کی پرواز کا ہمسفر(حصہ اول) ۔

نوزائیدگی کے بعد پہلے تو ماں  یا آیا ہی بچے کا زیادہ خیال رکھتی ہیں اور انہیں اپنا ساتھ دیتی ہیں۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے۔ اس میں گھر کے دیگر افراد بھی شامل ہوتے جاتے ہیں جیسا کہ بہن بھائی اور چچا چچی وغیرہ۔ لیکن زیادہ وقت بچے کا اپنے بہن بھائیوں  یا ان بچوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے جو ابھی سکول نہیں جا رہے ہوتے یا انہیں سکول جاتے ہوئے کم عرصہ ہی ہوا ہوتا ہے۔ غالباً 4 سال تک کی عمر کے بچوں کے ساتھ۔

چھوٹی عمر کے بچے اپنے دوستوں کی نسبت اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔اس دوران ماں اور دیگر افراد کو امور خانہ داری کے لئے مناسب وقت مل جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق 11 سال کی عمر تک پہنچنے میں بچے اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ اپنا 33 فی صد وقت گزارتے ہیں۔ گوکہ اس دوران وہ سکول کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنا وقت تقسیم کرتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق یہ بچے اگر چھوٹی خاندان کے ہیں تو وہ تقریباً 11 گھنٹے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ گزارتے ہیں اور اگر وہ بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو اس میں اضافہ ہو کر 17 گھنٹے تک ہو جاتا ہے۔

جب یہ بچے آپس میں رہ رہے ہوتے ہیں تو ان کے درمیان اپنی قوت دکھانے کو یا اپنا مقام بنانے کے تقریباً ہر 10 منٹ میں ایک بار لڑائی ضرور ہوتی ہے۔ چھوٹے بچے چونکہ بڑے بچوں سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ وہی چیز حاصل کرنا چاہتے ہیں جو بڑے نے پکڑی ہو اور اس وجہ سے وہ اس کو حاصل کرنے کے لئے ضد کرتے ہیں جس کی وجہ سے ماں باپ کی طرف سے بھی چھوٹے بچے کو حمایت حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچوں میں لڑائی ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنی بالادستی قائم کرنے کو چوری چھپے چھوٹے بچوں پر تشدد بھی کرتے ہیں۔جبکہ اس 10 منٹی لڑائی میں زیادہ تر چھوٹے بچوں کارجحان زیادہ ہوتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق 65 فی صد مائیں اور 70 فی صد باپ اپنے دو یا دو سے زائد بچوں میں سے کسی ایک طرف زیادہ پیار بھرا اظہار رکھتے ہیں با نسبت باقی بچوں کو گو کہ والدین اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں لیکن وقت بوقت کی گئی تحقیق نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ یہ رجحان عموماً تمام والدین میں پایا جاتا ہے۔ اور اس رجحان کو بچے لا شعوری طور پر سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اس کا ان کی زندگی پر گہرا اثر بھی مرتب ہوتا ہے اور وہ اپنے بہن بھائیوں سے  اس بنا پر کچھ تلخ و پر تشدد رویہ اپنا نا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایک ہی خاندان میں موجود بچی اور بچے میں عموما ایک دوسرے کے نقش قدم پر چلنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ یہ ہر وقت نہیں ہوتا کچھ دفعہ یہ اس کے بالکل برعکس بھی ہوجاتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب خاندان میں مخالف جنس کا ایک ہی بچہ موجود ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی الگ شناخت کے لئے مختلف قسم کا رویہ اور راستہ اپناتا ہے۔

ایک ہی خاندان میں پیدا ہونے والے بچوں میں عموماً بڑا بچہ یعنی جس کی پیدائش باقی بہن بھائیوں سے پہلے ہوئی ہوتی ہے وہ زیادہ زہین اور عقلمند ہوتا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہوتی ہے کہ اس کی تعلیم و تربیت پر زیادہ وقت دیا گیا ہوتا ہے یا وہ تعلیمی میدان میں آگے ہونے کی وجہ سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں نمایاں ہوتا جاتا ہے اور پھر والدین کی طرف سے بھی اسے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کو سکھانے میں مدد کرے اور جب کسی چیز کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کی سمجھ ، سمجھنے سے زیادہ آتی ہے۔

اس کے علاوہ بڑا بچے پھر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں پر اپنی سوچ اور سمجھ کو تھوپنا شروع کر دیتا ہے۔

کچھ تحقیقات کے مطابق اس  کے برعکس عوامل ہوتے ہین کہ چھوٹے بچوں کا آئی کیو لیول زیادہ ہوتا ہے با نسبت بڑوں کے مگر وہ اس وقت تک پوشیدہ رہنا ہے جب تک کے بچے کی عمر 11 سال سے اوپر نہیں ہو جاتی ہے۔

چھوٹے بہن بھائی بڑوں کی نسبت زیادہ معاشرتی یا گھر سے باہر خوش رہنے کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک بڑاے خاندان میں زیادہ بچوں کے ساتھ میل ماپ رکھتے ہیں اور چھوٹے خاندانوں میں بھی چھوٹے بچوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے۔یہ چھوٹے بہن بھائی اپنے آپ کو نمایا ں کرنے کے لئے بولنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ خواہ کسی بات کا منوانا ہو یا  توجہ حاصل کرنی ہو۔

چھوٹے بہن بھائی زیادہ زرارتی اور مزاحیہ مزاج ہوتے ہیں۔ ان میں تخلیقی  ، روایتی رجحانات سے باغیانہ صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اور وقت کے ساتھ وہ سنجید گی میں بھی حد درجہ اتم ہوجاتے ہیں۔

ایک ہی خاندان کے بچے یعنی بہن بھائیوں کی شکل و شباہت تو ایک جیسی ہوتی ہے لیکن ان کی شخصیت یکسر مختلف ہو سکتی ہے۔ ان کا انداز گفتگو اور معاشرتی اقدار و رسومات کی  طرف رویہ مختلف ہو سکتا ہے۔

درج بالا مواد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خاندان میں بچوں کی صلاحیت سوچ اور تخیل باقی بچوں کی  سوچ و تخیل سے جڑا ہوتا ہے۔ جس سے بچے میں مزید تخلیقی اور دماغی پختگی آتی ہے۔ اور باقی بچوں کے رویہ سے بچے میں باغیانہ سوچ پنپ سکتی ہے۔

 

Continue Reading

ممتاز قادری کی پھانسی اور ہمارے روایتی میڈیا کا کردار

ممتاز قادری وہ شخصیت ہے جس نے تقریباً پانچ سال قبل 4 جنوری 2011 کو اسلام آباد میں اس وقت کے گورنرپنجاب سلمان تاثیر کی حفاظت کی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس میں وجہ قتل صرف توہین رسالت و توہین رسالت قانون ہے۔

آئیے یہاں سلمان تاثیر کے اس بیان کر بھی دہرا دیں جس کی وجہ سے ممتاز قادری کو  قتل کرنے کی شہہ ملی۔

سلمان تاثیر نے گورنر پنجاب کی حیثیت سے سال 2010 میں متعدد انٹرویوز میں توہین رسالت کے قانون  بارے اپنے بیانات جاری کئے  لیکن 20 نومبر 2010 کو آسیہ بی بی کے ساتھ جو پریس کانفرنس کی اس کا یہ بیان زیادہ زہر قاتل ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کیس کا مکمل جائزہ لیا ہے اور ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ مجھے صوبے کے آئینی سربراہ کی حیثیت میں اپیل ملی ہے میں یہ خود صدر کے پاس لے کر جاؤں امید ہے کہ صدر اسے منظور کر لیں گے۔ گورنر نے کہا اس معاملہ میں مذہب کی کوئی بات نہیں اس کا تعلق انسانیت سے ہے، بے بس لوگوں کو ایسے کیسوں میں ملوث کر کے مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا وہ عدلیہ کے فیصلوں سے متعلق کچھ نہیں کہیں گے نہ پارلیمینٹ کی کاروائیوں میں مداخلت کرتے ہیں، آسیہ کی سزا برقرار ہے ، عدلیہ کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کروں گا۔ اگر صدر مملکت نے آسیہ بی بی کی سزا معاف کر دی تو کوئی بھی پاکستانی اس پر احتجاج نہیں کر ے گا۔ یہ خاتون ہایت غریب ہے اور اس کے پاس قانونی دفاع کے لئے وسائل بھی نہیں”۔

Aasia Bi Bi & Salman taseer Press Conference 20 November 2010

مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس اقدام اور بیان کے بعد سابقہ بیانات اور حالیہ بیانات کی وجہ اس قانون کو ختم کرنے کی سازش کی بو محسوس ہوئی تو کچھ مذہبی رہنماوں نے اس پر اپنی آواز بلند کی اور یہ قرار دیا کہ گورنر کی جانب سے توہین رسالت قانون کو کالا قانون کہا جانا توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے۔ جس کے بعد حالات و واقعات کی بنا پر ممتاز قادری نے بلاآخر 4 جنوری 2011 کی شام فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور اپنے بیان میں کہا کہ

اس   نے ناموس رسالت ایکٹ کو کالا  قانون  کہنے پر گورنر تاثیر کو قتل کیا ہے اور اسے اس پر کوئی افسوس نہیں”۔”

Mumtaz Qadri Killed Salman Taseer Governor Punjab Pakistan

اس واقعہ کے بعد ممتاز قادری کو مختلف عدالتوں سے پھانسی کی سزا کے بعد صدر پاکستان کی طرف سے بھی کسی رعایت نہ ملنے کے بعد مورخہ 29 فروری 2016 کو پھانسی دے دی گئی۔

اب سوشل میڈیا پر تو اس خبر کا زور و شور روایتی ایشو کی طرح بھرپور جاری ہے۔ لیکن جسے مین سٹریم میڈیا کہا جاتا ہے۔ جس نے قتل کی واردات کو تو دنوں پر محیط ٹرانسمیشن میں شامل رکھا اور اس کے بعد پھانسی کی سزا سے لے کر صدر کی جانب سے رعایت نہ ملنے تک کو نمایاں رکھا۔اس دوران مختلف مذہبی تنظیموں نے ممتاز قادری کے ساتھ اظہاری یکجتی کرتے ہوئے جلسے جلوس اور دھرنے بے دئیے جن کی کسی میڈیا نے کوریج نہیں کی لیکن اس کی کوریج سوشل میڈیا کے زریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں تک ہوتی رہی۔

وہی اخبارات اور نجی ٹی وی جو چھوٹی سی چھوٹی خبر کو اپنے صفحات اور سکرینوں پر بار بار ایسے گھماتے ہیں کہ جیسے پورے ملک کا مسئلہ ہی یہی ہے۔ جب ممتاز قادری کو پھانسی دینے کے بعد پورے ملک میں اس کے خلاف احتجاج اور ردعمل آیا ہے تو میڈیا نے پیمرا کی جانب سے ایک دھمکی آمیز خط موصول ہونے پر اپنے تمام قواعد و ضوابط کو بدل کر اس نمایاں خبر کو بالکل سائیڈ لائن کر دیا ہے۔ کہاں ہیں وہ آزادی اظہار کے علمبردار اور میڈیا کی آزادی کے راگ الاپنے والے جنہوں نے کہا کہ ہم نے ملک میں سب کو اظہار رائے اور لوگوں تک رسائی دلوا دی ہے۔

یہ باتیں چینلز پر بیٹھ کر ہی بس کی جا سکتی ہیں یا کالم لکھ کر ہی صرف کی جاتی ہیں  کہ ہم نے آزادی صحافت کے لئے جنگ لڑی ہے۔ لیکن حقیقت میں آپ لوگوں نے آزادی صحافت نہیں آزادی حصول مال کی جنگ لڑی ہے جس کی قیمت آج آپ وصول کر رہے ہیں۔ جب تک آپ جیسے صحافی اور دانشور اس ملک میں وافر مقدار میں میسر رہیں گے ہماری قوم یونہی جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی رہے گی یونہی سلمان تاثیر قتل ہوتے رہیں گے یونہی ممتاز قادری پھانسی چڑھتے رہیں گے۔ اس وقت بھی سلمان تاثیر قتل نہیں ہوا تھا پاکستانی قوم قتل ہوئی تھی اور آج بھی ممتاز قادری پھانسی نہیں چڑھا پاکستانی قوم پھانسی چڑھی ہے۔ جس کے ذمہ دار اس قوم کے  آواز بننے والے سگ ہیں جو کہتے ہیں ہم عوام میں سے ہیں اور ان کے لئے قربانیاں دے کر یہاں عوام کے حق کے لئے بولتے ہیں جناب واقعی آپ حق کے لئے بولتے ہیں اپنی جیب کے حق کے لئے۔ جس میں عوام کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔

آج وقت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ آپ کسی ایک فرد کی حمایت میں بولیں بلکہ تقاضا یہ ہے کہ آپ جو دیکھ رہے ہیں کم از کم اسے اپنے میڈیا پر دکھائیں۔ اگر کوئی احتجاج کر رہا ہے تو اسے بھی میڈیا پر آنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا آسکر ایوارڈ میں جیتنے والے انکل لیونارڈو یا آنٹی شرمین عبید چنائے کو ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کی مثبیت کو چھوڑ کر اس مکھی کا کردار ادا کیا ہے جو پورے خوبصورت جسم کو چھوڑ کر صرف زخم پر بیٹھتی ہے خواہ کتنا چھوٹا کیوں نہ ہو۔

اگر کسی کو دیکھنا ہے کہ کیسے  مین سٹریم میڈیا نے آج اپنی صحافت کو طوائف کی طرح بستر حکومت پر لٹا لیا ہے تو جناب وہ سوشل میڈیا پر موجود مواد دیکھ لے ٹی وی چینلز پر  کسی کے بیمار کتے کی خبر دیکھ لے تو مورخہ 5 جنوری 2011 کے اخبارات اور  یکم جنوری 2016 کے اخبارات میں ایک ہی واقعہ کی خبر کی تمام کالمی سے  سہہ کالمی خبریں دیکھ لیں جس کی جتنے کالم کم ہوں وہ اتنی ہی قیمتی طوائف صحافت کے علمبردار ہیں۔

 

نوٹ:۔ ممتاز قادری و سلمان تاثیر قتل بارے میری رائے۔

Fakhar Naveed thinking about ‎ممتاز قادری و سلمان تاثیر‎‎.

ممتاز قادری و سلمان تاثیر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جاوے ۔۔۔۔ کیونکہ ان دونوں کے چاہنے والوں کے پاس دلائل ہیں مگر جو سچ اور حقیقت ہے وہ صرف اللہ کی ذات جانتی ہے۔ اس لئے ہمیں اللہ اور بندے کے درمیان معاملے کو ہاتھ میں لے کر کسی ناکردہ گناہ کی سزا سے بچنا چاہیے۔

Status about Salman Taseer & Mumtaz Qadri

 

 

Continue Reading

بے لاگ ۔ اردو بلاگرز کی منتخب تحاریر کتاب کی تقریب رونمائی

گزشتہ دو ماہ سے اردو بلاگرز کی تحاریر پر مشتمل ایک کتاب کو چھاپنے پر کام شروع ہوا جس کا سہرا جناب خاور کھوکھر صاحب اور جناب رمضان رفیق صاحب کے سر ہے ان دونوں صاحبان نے ملکر لگن اور دلجمی سے اس نا ممکن کام کو ممکن بنایا۔ اور اس کتاب کی تقریب رونمائی کے لئے مورخہ 28 فروری 2016 بروز اتوار الحمرا ہال نمبر 3 میں دوپہر 1 بجے منعقد کی گئی اس تقریب کا انعقاد اردو بلاگرز اور پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کے زیر اہتمام  ہوئی۔ اس میں جو معزز مہمانان گرامی کو دعوت دی گئی ان میں جناب سعید آسی صاحب -کالم نگار و ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت ۔۔ جناب عامر ہاشم خاکوانی روزنامہ دنیا نیوز ۔۔ ڈائیجسٹ صفحہ انچارج و کالم نگار ۔۔۔ جناب گل نو خیز اختر کالم نگار و سکرپٹ ایڈیٹر روزنامہ نئی بات ۔۔۔ جناب سید بدر سعید کالم نویس روزنامہ نوائے وقت ۔۔ جناب شہزادچوہدری  چئیرمین پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اور جناب کاشف بشیر خان  اینکر تجزیہ نگار و صد ر پاکستان گروپ آف جرنلسٹس  نے اس تقریب میں شامل ہو کر محفل کو اور عزت بخشی۔

Urdu Bloggers Book Main

صبح 11:30 پر جب میں الحمرا ہال پہنچا توجناب خاور کھوکھر ، جناب رمضان رفیق اور جناب غلام عباس مرزا صاحب پہلے سے وہاں موجود تھے جنہوں نے اپنی محبتوں سے نوازا۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا دیگر اردو بلاگرز جن میں جناب محمد اسلم فہیم ، جناب ریاض  شاہد ، جناب ایم بلال ایم ،محترمہ نسرین غوری  ، جناب محمد انس اعوان ، جناب  نجیب عالم ، جناب ساجد شیخ اور کچھ خواتین بلاگرز کے ساتھ دیگر اردو بلاگرز بھی شامل ہوئے جن کے ساتھ تعارفی نشست نہ ہو سکی اس لئے ان کا ذکر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

جناب نجیب عالم صاحب نے آن لائن سٹریمنگ کے لئے اپنی زنبیل سے آلات نکالے اور اس کو سیٹ کرنے لگے ساتھ ساتھ  نوک جھوکہوتی رہی۔ میں اور جناب اسلم فہیم صاحب نے مائیک ٹیسٹنگ اور ڈائس کی سیٹنگ کی اس کے علاوہ رمضان صاحب کے دوست کی مدد سے ملٹی میڈیا پر بلاگرز کی تعارفی سلائیڈ چلانے کا اہتمام کیا یوں کرتے کراتے تقریبا 1:30 ہو گئے اور تقریب رونمائی کا آغاز جناب حافظ زاہد صاحب کی تقریر سے کیا گیا اس کے بعد ایک ڈاکٹری کی طالبہ نے ہدیہ نعت پیش کی جس کے بعد جناب  نجیب عالم صاحب کو ابتدائیہ بیان کرنے کے لئے بلوایا گیا ۔ ان کے  بعد جناب اسلم فہیم کو بلوایا گیا جنہوں نے مکمل تیاری کے ساتھ ایک اچھی تقریر کی۔  راقم الحروف کو بھی یک دم دعوت دے کر شش و پنج میں ڈال دیا گیا ہم نے بھی دل میں سب کو گوبھی کے پھول گردانتے ہوئے سرخرو ہونے کی کوشش کی ۔ اس کے بعد ریاض شاہد صاحب نے تفصیلی گفتگو کی دیگر مہمان گرامی اور نسرین غوری صاحبہ نے بھی سٹیج پر آکر اس تقریب کو مزید جلا بخشی۔

اس تقریب کی تقاریر میں جناب  شہزادچوہدری  چئیرمین پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ نے چند بلاگرز کی تحاریر کو پسند کرتے ہوئے ان کا نام لے کر زکر کیا۔ جن میں میری بلاگ پوسٹ جنگل و انسانی پارلیمنٹ کا زکر بھی موجود ہے۔ جس کا یو ٹیوب ربط یہاں موجود ہے۔


جناب کاشف بشیر خان  اینکر تجزیہ نگار و صد ر پاکستان گروپ آف جرنلسٹس  نے تمام اردو بلاگرز کو جرنلسٹ قرار دیتے ہوئے انہیں جرنلسٹس یونین میں ممبر شپ دنے کا اعلان کیا اور ان کو حقوق دلوانے کا اعلان کیا۔

جناب عامر ہاشم خاکوانی روزنامہ دنیا نیوز ۔۔ ڈائیجسٹ صفحہ انچارج و کالم نگار نے اردو بلاگرز کی خدمات اور کام کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے ڈائجسٹ صفحہ کے لئے تحاریر بھیجنے کی دعوت دی جن کو ان کے نام اور بلاگ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔

اس تقریب کی کامیابی کا جتنا کریڈٹ جناب رمضان رفیق صاحب اور خاور کھوکھر صاحب کے ساتھ اردو بلاگرز کو جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ جناب ساجد شیخ صاحب اور حافظ زاہد صاحب کی اس کتاب کو کمپوز کرنے اور بعد ازاں اس کے چھاپنے کے مرحلے سے  لے کر مشکل مرحلوں کو وقت مقررہ پر پورا کرکے ایک شاندار کام کیا۔ میں خاص طور پر ساجد صاحب اور حافظ زاہد صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

اس تقریب میں جو بات اچھی لگی وہ یہ تھی کہ نہ اس میں کوئی مہمان تھا اور نہ ہی میزبان سب اس کی ایک خاندانی محفل سمجھ کر اپنے اپنے کام میں مگن نظر آئے۔ اس تقریب میں شامل ایسے اردو بلاگران جن کے نام تو ہم نے سن رکھے تھے وہ شامل بھی ہوئے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے ان کا فردا فردا تعارف نہ ہو سکا جس کا دکھ ہوا۔ کیونکہ اگر ان سب سے تعارفی بیٹھک ہو جاتی تو اردو بلاگرز کی  محبتوں میں مزید اضافہ ہوتا ۔

پہلی اردو بلاگرز کانفرنس کے بعد اس کتاب کی تقریب رونمائی نے اردو بلاگرز کے تشخص مزید استحکام بخشا۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو بلاگرز کو مزید اچھا لکھنے کی تحریک بخشی۔

نوٹ: اس کتاب کی فہرست میں غلطی سے میرا نام فخرنوید سے فخر ندیم لکھا گیا ہے اور میرے دو مراسلے شامل کئے گئے ہیں

جنگل و انسانی پارلیمینٹ

مذہب کے نام پر کاروبار اور ہم

لاہور کے ایک معروف اخبار نے سٹی 42 نے اس تقریب کی کوریج پورے صفحہ پر کی ہے جس کا ربط یہ ہے۔

اردو بلاگرز کی پریزینٹیش سلائیڈ شو بھی یہاں پیش خدمت ہے۔

اردو بلاگرز کی پریزینٹیش سلائیڈ شو

 

Continue Reading

بچوں کے تخیل کی پرواز کا ہمسفر(حصہ اول) ۔

کائنات کی تخلیق میں بہت سے اسرار و رموز ایسے ہیں جن تک انسانی سوچ ابھی تک پہنچ نہیں سکی اور سمجھ نہیں سکی۔ یہ پر اسراریت ہی انسانی تخیل کو  بڑھوتری دیتا ہے اور انسان کے تخیل کی پرواز کو بلندی بخشتا ہے۔ اگر ہم اس کائنات میں موجود کسی بھی چیز کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیں تو بندہ سوچتا ہی رہ  جاتا ہے۔ اور قدرت کے کرشمے کی تعریف اور اس کے تخلیق کار کی حمد بیان کئے بنا رہ نہیں پاتا۔

تخیل کی پرواز کیسے شروع ہوتی ہے؟ یہ بھی ایک ایسا ہی اسرار و رموز ہے جس کی اب تک کھوج جاری ہے۔ کہ نوزائیدہ کیا سوچتا ہے؟ کیا اس کی سوچ پیدا ہوتی ہے؟ اگر سوچ پیدا ہوتی ہے۔ تو کیا وہ اس سوچ کے نتائج اخذ کر پاتا ہے؟ بہت سے ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جن کے جوابات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔

جوں جوں بچہ نوزائیدگی سے نکل کر3 ماہ کے عرصہ تک پہنچتا ہے تو بچے کی سوچ اور تخیل کے اثرات بھی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس وقت اس کے تخیلات اور سوچ کی ہمراہی اس کا باپ یا ماں ہوتی ہے۔ سائیکالوجی پروفیسر پال سی کوئن ، پی ایچ ڈی ، ڈیلا ویر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 3 ماہ کا بچہ جنسی طور پر اپنے ساتھ زیادہ خیال رکھنے والے کو پہچاننے کی صلاحیت حاصل کر  لیتا ہے۔ اس کی یہ صلاحیت قدرتی طور پر کسی ایک جنس یعنی مرد یا عورت کی طرف نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ اس کی سوچ کے تحت ہوتی ہے کہ کون اس کا زیادہ خیال رکھتا ہے بچے کی انسیت اور توجہ بھی اس کی طرف  زیادہ بڑھتی ہے۔ خواہ وہ ماں ہو یا باپ۔

ہمارے مشرقی معاشرے میں چونکہ بچوں کی پرورش ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہی  بچے کی حرکات و سکنات سے یہ سمجھ لیتی ہے۔ کہ بچہ کیا چاہتا ہے؟ یا بچہ کیا سوچ رہا ہے؟

بچے کے تخیل کی پرواز کا پہلا ہمسفر ماں کا احساس مامتا ہوتا ہے۔ جو اس کی سوچ کو اچھے یا برے کی تمیزسکھاتا ہے۔ ماں کی محبت اپنے بچوں سے بڑھ کر کسی سے نہیں ہوتی ہے۔

اسی بنا پر بچے کے تخیل کو مثبت سمت دینے کے لئے ماں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر ماں اسے ایسا ماحول فراہم کرتی ہے۔ جس سے بچے میں مثبت رجحان بڑھے ۔ اگر ماحول میں منفی رویے اور سوچ بچے کو ملے گی تو اس کی سوچ بھی اسی میں ڈھل جائے گی۔ ماحول میں غیر مساوات اور نا انصافی ہو گی تو اس بچے کا دوسرے بچوں کے بارے خیالات منفی ہوتے جائیں گے اور ان کی طرف وہ حسد و رقابت کی نظر سے دیکھے گا۔

ماں کو  اللہ تعالیٰ نے نفسیاتی علم قدرتی طور پر فراہم کیا ہوا ہے۔ جس کے تحت ماں بچے کی ہر حرکت سے اس کو پہچان لیتی ہے کہ بچہ اس وقت کس صورت حال سے گزر رہا ہے۔ اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ بچے کی باڈی لینگوئج اور عمل میں تضاد ہے تو بچہ کسی منفی سرگرمی مین ملوث ہے یا کسی پریشانی کا شکار ہے۔ اور اس وقت ماں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچے کو دوستانہ رویہ سے اپنے قریب کرے تاکہ بچہ اگر پریشان ہے تو اپنی پریشانی بیان کرے اگر وہ غلطی کر چکا ہے تو سزا کے خوف سے چپ نہ رہے بلکہ اپنی ماں کو اپنی غلطی بیان کر دے اور اسے مستقل مزاجی نہ بنا لے جس سے وہ منفی سوچ کا حامل ہو جائے۔

بچوں کی بچپن کی تربیت ان کی باقی ماندہ زندگی یا یوں کہہ لیجئے بڑھاپے تک وہ تربیت اثرانداز رہتی ہے۔ جو چیزیں آپ بچے کو بچپن میں سکھاتے ہیں سمجھاتے ہیں وہ اس کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔

 

Continue Reading
1 2 3 30