فلسفہ خیالی اور الیکشن کی شاعرانہ تقریر

خیالی ایک انتہائی محنتی اور ایماندار شخص ہے حالات کی نزاکت پر اس کی گہری نظر ہوتی ہے۔ جسے وہ اپنی شاعری کی مدد سے بیان کرتا رہتا ہے۔جس نے کبھی کسی بھی قسم کی مزدوری کرنے سے انکار نہیں کیا اس کا کہنا ہے کہ حق حلال کی جیسے مل جائے وہی اچھی ہے۔آج کل اس کا روزگار کاٹھ کباڑ اکٹھا کرنا اور اسے بیچ کر اپنا پیٹ پالنا ہے۔ہم یار لوگ شام کو اپنے مشہور و معروف منجی والے ڈیرے پر کچھ دوست بیٹھے تھے تو وہاں سے خیالی اپنے دن بھر کی محنت سے حاصل کیا گیا کاٹھ کباڑ لے کر گزر رہا تھا۔ جسے ہم نے آواز دے کر اپنے پاس کرسی پر بٹھا لیا۔

url
اس کے بعد خیالی نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ اس طرح سے شروع کیا۔
آج سے ستر اسی سال پہلے شاعروں کی بہت موجیں تھیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا اس وقت کے شاعر بھی بہت مشہور ہیں۔کیونکہ اس وقت لوگ شاعروں کی قدر کرتے تھے انہیں اہمیت دیتے تھے۔اس وقت تو امام دین گجراتی جو واہیات قسم کے شعر لکھتا تھا اس کا بھی بہت نام تھا۔ اس موقع پر اس نے امام دین کے نام سے ایک شعر سنایا کہ

 ————————————-

آیاں ساں کج کہن نوں
تسی جگہ نئیں دیتی بین نوں
کوئی نا تسی بولیا جے
۔۔۔۔۔ تواڈی ۔۔۔۔۔ نوں

————————————-

——– اس لئے لگا دی ہے کچھ سنسر شپ خود سے بھی خود پر لاگو کی ہوئی ہے۔
کچھ شاعری تو شاید امام دین نے ہی کی ہو۔ لیکن زیادہ تر ایسی بیہودہ شاعری دوسرے لوگوں نے خود کی اور نام امام دین کا لگا دیا۔جیسے نوری نت نے شاید کچھ ہی قتل کئے ہوں گے لیکن زیادہ تر قتل اس کے کھاتے میں ڈالے گئے۔ اسی طرح کچھ شاعری امام دین کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔
جیسے اور شاعروں نے اپنا بیہودہ کلام امام دین کے کھاتے میں ڈالا اسی طرح میں نے (خیالی) بھی ایک نظم امام دین کے کھاتے میں ڈالی جو کہ ہمارے گاوں میں ہونے والے الیکشن کے موقع پر لکھی تھی۔جیسے ابھی بلدیاتی انتخابات کا دور ہے اسی طرح ہمارے گاوں نے بھی کہا خیالی تم ہماری طرف سے الیکشن لڑ گے۔ لوگوں نے مجھے کہا چاہے تمہارے جیسے بھی حالات ہیں۔ ہم لوگ تمہارے ساتھ ہیں اور تم الیکشن لڑو گے ہم تمہاری ہر قسم کی مالی و اخلاقی مدد کریں گے اور اسے الیکشن کے امیدوار کے طور پر نامزد کر دیا گیا۔
جب میرے کاغذات نامزدگی جمع ہو گئے الیکشن کمپین کے دوران ہی میری بیوی فوت ہو گئی۔
میں اپنی بیوی کی وفات کے سوگ میں مصروف ہو گیا اور تعزیت کے لئے آنے والے لوگوں سے میل ملاپ کرتا رہا۔ دوسری طرف مخالف پارٹی کے ڈیرے پر الیکشن کمپین کے سلسلہ میں چائے اور قیمے والے نان اڑتے رہے۔لوگوں کا رجحان اب میری طرف سے ہٹ کر مخالف امیدوار کی طرف ہو گیا۔اورمیرے پاس وہ چند لوگ ہی موجود ہوتے جنہوں نے اسے الیکشن پر کھڑے ہونے کو کہا تھا۔ کیونکہ ان کی مجبوری تھی کہ اب اسے اس کنویں میں دھکا دیا ہے تو اس کا ساتھ بھی دینا ہو گا۔الیکشن میں چند دن باقی رہ گئے تو میں نےاور میرے حامیوں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی کمپین بھی شروع کر دی جاوے۔لہذا انہوں نے اپنی جیب کی اجاز ت سے ایک ڈھول والے کو دس روپے معاوضہ دے کر اس کی مدد سے منادی کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت دس روپے میں تین من گندم مل جاتی تھی۔ ڈھول والے کو بلا کر دس روپے دئیے گئے جس پر اس نے کہا اتنے پیسوں کا میں کیا کروں گا جب اسے ساری صورتحال بتائی گئی تو وہ اپنے کام میں لگ گیا۔ اور ایک محلے سے دوسرے محلے میں جا کر پورے حلقے میں کچھ اس طرح سے منادی کرنے لگا۔
کہ کل خیالی کا آخری جلسہ سکول والی گراونڈ میں ہو گا۔ اور وہ آپ کو اپنی شاعری بھی سنائے گا۔
چونکہ سادہ ماحول تھا اور اس وقت لوگوں کو تفریح کے اتنے مواقع بھی میسر نہ تھے لہذا لوگوں کا ایک جم غفیر جلسہ کے مقام پر اکٹھا ہو گیا اور میں یعنی خیالی بھی جلسہ گاہ میں پہنچ گیا اور رسمی کاروائی کے بعد مجھےاظہار خیال کا موقع دیا گیا۔
میں (خیالی)نے اپنی تقریر شروع کر دی اور اہل حلقہ سے ووٹ مانگتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور جذبات کا شاعرانہ انداز میں کچھ ایسے بیان کیا۔

خیالی سی پنڈ دا پینچ یارو کوئی سارے زمانے دا کنڈ تے نئیں

خیالی سی پنڈ دا ، ،،،پینچ یارو

کوئی سارے زمانے دا کنڈ تے نئیں

رنڈا ہونا مرضی رب دی اےیارو،

میں وی بندہ ای آں کوئی کُھنگ تے نئیں

چھڈ گئیاں زنانیاں ویہڑہ میرا یارو

کی سمجھیاں نے مینوں ، میں کوئی لنڈ تے نئیں

ڈیڑھ مہینہ رنڈیاں ای لنگ گیا اے یارو

میں چُکیا کسے دا کونڈ تے نئیں

کرنا اے اک ویاہ ہور میں ہلی یارو

پُٹ کیتا میرا مونڈھ تے نئیں

یار سجن وی ساتھ پئیے نے چھڈ دے

اے کوئی طریقہ ، ٹنگ تے نئیں

ووٹ منگے نے ، دے شڑیو یارو

منگ بیٹھا میں کوئی ۔۔۔۔۔ تے نئیں

خیالی سی پنڈ دا پینچ یارو کوئی سارے زمانے دا کنڈ تے نئیں

۔۔۔۔۔۔۔ خود ہی لگا لیجئیے گا۔۔۔ سمجھ تے تسی گئی ای ہوو گے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/pakgalaxy/domains/urdu.pakgalaxy.com/public_html/wp-content/themes/UrduBlog/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/pakgalaxy/domains/urdu.pakgalaxy.com/public_html/wp-content/themes/UrduBlog/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں