ایم فل ماس کمیونیکیشن داخلہ اور وفاقی محتسب پاکستان

گزشتہ سال ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کرنے کے بعد سوچا چلو ویلے ہی ہیں تو ایم فل ہی کر لیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آگئی کہ اب این ٹی ایس NAT & GAT ٹیسٹ ۔۔۔کے بغیر بھی داخلہ مل سکتا ہے تو ارادہ اور مضبوط ہو گیا۔ کیونکہ زیادہ ٹیسٹ سسٹم کے میں بالکل بھی خلاف ہوں جیسا کہ آپ کو میرے اس بلاگ مراسلے سے اندازہ ہو سکتا ہے۔بورڈ و یونیورسٹی امتحانات کے بعد ٹیسٹ سیاپا

لہذا موقع غنیمت جانتے ہوئے میں نے بھی ماہ اگست میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد میں داخلہ کے لئے درخواست پیش کر دی ۔ اور تین ماہ بعد 10 نومبر 2014 کو ایم فل ماس کمیونیکیشن داخلہ ٹیسٹ اور انٹرویو کے لئے گوجرانوالہ شہر سے اسلام آباد کے لئے رخت سفر باندھا۔ اور صبح سات بجے فیض آباد سٹاپ پر ۷ بجے ناشتہ کرنے کے بعد یونیورسٹی میں پہنچ گئے جہاں اکیڈمک بلاک میں ٹیسٹ منعقد ہونا تھا وقت سے پہلے پہنچنے کی بنا پر مختلف شہروں سے آئے لوگوں کے ساتھ گپ شپ کا موقع میسر آگیا۔
تقریباً 9 بجے کے قریب لسٹیں آویزاں کر دی گئی جس کے مطابق 331 امیدواران میں سے میرا سیریل نمبر 6 پر نام درج تھا۔ اور اسی سیریل نمبر کو رولنمبر قرار دے کر ہمیں 9:30 پر ٹیسٹ ہاتھ میں پکڑا دیا گیا جسے 1 گھنٹہ میں مکمل کر کے واپس کرنا تھا اور ٹیسٹ پیپر پر نام اور رولنمبر درج کرنا تھا۔ 10:30 پر ٹیسٹ ختم ہو گیا تو ہمیں کہا گیا کہ آج ہی 3 بجے سہ پہر اس ٹیسٹ کا نتیجہ ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے باہر نوٹس بورڈ پر آویزاں کیا جائے گا۔ اس درمیانی وقت کے دوران زیادہ تر امیدواران ڈیپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکیشن کے باہر ہی موجود رہے اور گپ شپ ہوتی رہی۔ 3 بجے کے قریب نوٹس بورڈ دیکھا تو خالی تھا لہذا ڈیپارٹمنٹ والوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی اور وقت لگے گا آخر کار 4:15 بجے پر میرٹ لسٹ لگی ۔ جس میں کامیاب 83 امیدواران میں سے میرا نام سیریل نمبر 17 پر موجود تھا اور ساتھ رولنمبر 6 لکھا ہوا تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ پہلے مرحلہ سے تو کامیاب ہو نکلے۔

ایم فل ماس کمیونیکیشن داخلہ ٹیسٹ پاس لسٹ
ایم فل ماس کمیونیکیشن داخلہ ٹیسٹ پاس لسٹ

لہذا اگلے دن انٹرویو کے لئے اب وہاں رہنا مقصود تھا تو اس کا مسئلہ بھی حل ہو گیا اور مبلغ 300 روپے میں یونیورسٹی ہاسٹل میں ہی ایک کمرہ مل گیا۔ رات وہاں گزارنے کے بعد اگلے دن انٹرویو لسٹ میں اپنا نام دیکھا تو تمام خواتین کے نام ختم ہونے کے بعد کوئی چوتھے نمبر پر موجود تھا۔ لہذا یہاں پر خواتین کو برابری حقوق سے نہیں نوازا اور انہیں لیڈیز فرسٹ کر دیا گیا خیر سہ پہر 4:20 پر انٹرویو کے لئے اندر بلایا گیا تو تمام سوال چھوڑ اس سوال پر پریشانی ہوئی۔۔
سوال: ذرد صحافت کسے کہتے ہیں۔
جواب؛ لفافہ صحافت جناب
سوال: ذرد صحافت کنہوں نے شرو ع کی؟
جواب: سر یہ تو آپ مجھ سے الزام لگوائیں گے۔
سوال: کوئی بات نہیں آپ کھل کر جواب دو۔ پریشان نہیں ہونا
جواب: جی روزنامہ خبریں ۔ (جس پر چیرمین ڈیپارٹمنٹ نے ساتھ والے کو طنزیہ اشارہ کرتے ہوئے مسکراہٹ دی۔)
خیر یہ تو تبرکاً آپ کو سنایا ہے۔ لہذا انٹرویو ختم ہو ا اور ہمیں جانے کے لئے کہہ دیا گیا اور داخلہ کے حتمی کامیاب امیدواران کی لسٹ جلد جاری ہونے کا کہا گیا۔
خیر میں بھی عادت سے مجبور روزانہ فون کر کے داخلہ کے بارے پوچھتا رہا کبھی سوموار تو کبھی جمعرات کا وقت کہا جاتا اور آخر کار 27 نومبر 2014 کو
November 27 at 11:52am

“پس ثابت ہوا ۔۔۔دو ہفتے کا جو وقفہ ڈالا تھا ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ والوں نے وہیں انصاف و میرٹ کا قتل کیا جانا تھا۔”

لیکن ہم نے بھی ہار ماننا کہاں گوارا کرنا تھا اور آخری حد تک جانے کا ارادہ کرتے ہوئے اگلے دن وفاقی محتسب اسلام آباد میں اپنی شکایت درج کروادی۔ جو کہ فیس بک سٹیٹس کی شکل میں موجود ہے۔
مورخہ 28 نومبر 2014 ۔

میرٹ کے قتل پر میں نے بھی ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے خلاف وفاقی محتسب میں کیس کر دیا ہے۔۔۔۔۔باقی اللہ مالک
کمپلینٹ نمبر
ONL/0003379/14
http://www.mohtasib.gov.pk/gop/index.php
Wafaqi Mohtasib (Ombudsman) of Pakistan

اس کے بعد ایک ایس ایم ایس اور لیٹر موصول ہوا۔
وفاقی محتسب پاکستان

مجھے وفاقی محتسب پاکستان کا نظام بہت پسند آیا جہاں آن لائن شکایت کے ساتھ ساتھ آپ کو آپ کی شکایت کو آن لائن سٹیٹس چیک کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا گیا ہے۔
10 دسمبر 2014 کو وفاقی محتسب کال کر کے مزید تفصیل جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ

“آپ کی شکایت کی ایک کاپی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کو بھجودی گئی ہے وہ 13 دنوں کے اندر اس کا جواب ارسال کریں گے جو آپ کو بھجوا دیا جاے گا۔ اگر آپ اس جواب سےمطمن ہوئے تو کیس ختم کر دیا جائے گا۔ بصورت دیگر یکم جنوری 2015 کو دونوں پارٹیوں کو بلا کر اس کیس کو تفصیلاً سن کر فیصلہ صادر کیا جائے گا۔”

نوٹ:یہاں یہ بتاتا چلوں کہ یہ فیصلہ قبول نہ ہونے کی صورت میں سات دن کے اندر وفاقی محتسب اعلی سے اپیل کی جاسکتی ہے۔ جو اسے 45 دن کے اندر نمٹائیں گے وہاں سے بھی متوقع انصاف نہ ملنے کی صورت میں صدر مملکت پاکستان کو اپیل کی جا سکتی ہے۔
ابھی تک بندہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے دئیے جانے والے جواب کا منتظر ہے۔ جو بھی صورت حال ہوئی اس سے آپ لوگوں کو با خبر رکھا کائے گا۔اب آپ لوگوں سے دعا کی اپیل ہے۔ کہ میری محنت کا پھل مجھے مل جائے۔ شکریہ

ylliX - Online Advertising Network

اپنا تبصرہ بھیجیں