چائینیز مردوں کی پاکستانی خواتین سے شادیاں … کیا کوئی معاشرتی مسئلہ بننے جا رہا ہے؟

پاک چین دوستی کو ہمالیہ سے بلند، بحیرہء عرب سے گہرا، فولاد سے مضبوط اور شہد سے میٹھا سمجھا جاتا ہے. لیکن ایسا نہیں ہے ہر کوئی اپنے مفادات کے لئے یہ بلند و بانگ دعوی کرتا ہے. پاکستان جس اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے . اس نے کبھی چائینیز مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی. بس اپنے مفادات کی خاطر اور کچھ سیاسی خاندان اپنی جائیداد میں اضافہ کے لئے چائنیز سی پیک معاہدے کے گن گاتے نظر آتے ہیں. جبکہ یہ سراسر پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق کرنے اور اپنی عوام کو مزید پستیوں میں بھیجنے کے مترادف ہے.
لیکن یہاں ہمارا موضوع آج ایک ایسے معاشرتی مسئلہ کو اجاگر کرناہے جس کا مستقبل قریب میں پاکستان کے لئے مزید بدنامی کا باعث بنے گا. پنجاب کے بڑے شہروں میں ایک مافیا چائینیز مردوں کی پاکستانی خواتین سے شادیاں کروا رہا ہے. اور اس کے بدلے چائینیز مردوں سے روپے اینٹھ رہے ہیں. یہ چائینیز مرد مذہب کی پابندی کی وجہ سے کہیں کرسچن بن رہے ہیں اور کہیں مسلمان ہو رہے ہیں اور بھاری حق مہر کی رقم کے عوض نکاح کروا رہے ہیں.

لاہور، رائیونڈ (ویب ڈیسک) چینی انجینئر رائے ونڈ سے پسندکی لڑکی بیاہ لے گیا ،شادی کی تقریب میں سیاسی و سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔روزنامہ نوائے وقت کے مطابق مقامی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ پلاسٹک بنانے والی فیکٹری میں کام کرنے والے چین کے انجینئر ژانگ کانگ کی دوستی مشن کالونی رائے ونڈ کی رہائشی لڑکی کے چچا سے ہوگئی جس کی جواں سالہ طلاق یافتہ یتیم بھتیجی جیا جینیفر کرسچن کالونی رائے ونڈ میں منسٹری سنڈے سکول چلاتی ہے جہاں چائنیز بھی عبادت کیلئے آتے جاتے ہیں۔

اسی دوران فیکٹری انجینئر ژانگ کانگ کو جیا جینیفر پسند آگئی، اس نے جیا جینیفرکے چچا سے شادی کی خواہش ظاہر کی جس کے نتیجہ میں فریقین کے گھر والوں نے بھی رضا مندی ظاہر کردی۔اس طرح رائے ونڈ کی لڑکی چائنہ کے نوجوان کی بیوی بن گئی، دونوں کا نکاح کرسچن رسم و رواج کے مطابق ہوا جس میں چیئرمین دائود خان اور چیئرمین افضل خاں سمیت اہم سماجی و سیاسی شخصیات اور چینی ورکرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

سورس اردو نیوز

کچھ اکا دکا کیس تو راقم نے خود دیکھا ہے جس میں لڑکی دوسرے دن ہی اپنے چائینیز خاوند کے ساتھ رہنے سے عاری نظر آئی اور اس نے اپنے شوہر کے بارے میں کچھ مثبت رائے نہ دی اور کہا مجھے اس بندے سے گھن آتی ہے.

یہ چائینیز مرد شادی کرنے کے بعد جتنا عرصہ پاکستان میں قیام کریں گے. وہ اپنی پاکستانی بیوی کے ساتھ رہیں گے اور اگر کسی صورت چائنہ لے کر جانا پڑا تو اپنی بیوی کو وزٹ ویزہ پر چائنہ لے کر جائیں گے. اور اس کے شناخت اپنی بیوی کے طور پر ظاہر نہیں کریں گے. کیا یہ لوگ بھی عرب ممالک سے آنے والے شہزادوں کی طرح چندلوگوں کی سر پرستی میں اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد ان کو یہاں معاشرے کے لئے ناسور بننے کے لئے تو نہیں چھوڑ جائیں گے؟؟؟؟؟؟
اگر یہ شادیاں کامیاب ہو جاتی ہیں. اور چائنیز مرد اپنی منکوحہ کو بیوی کے طور پر چائینہ لے جانا چاہیں تو کیا حکومت ایسی اجازت دیگی؟ اگر ہاں تو پھر چائنہ میں موجود پاکستانی مردوں کی چائینز بیویوں کو کیوں نہیں پاکستان بھیجا جاتا، یا انہیں پاکستان آنے کی اجازت چائینہ دے رہا؟

پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام سے آج جمعرات 25 اکتوبر کو ملاقات کرنے والے ان تاجروں کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا، شمالی علاقے گلگت بلتستان اور پنجاب سے ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے کئی تاجروں کا بالعموم اور گلگت وبلتستان کے کاروباری افراد کا بالخصوص چین کے صوبے سنکیانگ سے پرانا تعلق ہے۔ گلگت کے لوگوں کا کاشغر اور سنکیانگ کے دوسرے شہروں میں رہنے والے مسلمان افراد سے برسوں پرانا تعلق ہے۔ سنکیانگ چین کاوہ واحد صوبہ ہے جہاں ایسے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، جو اپنے آپ کو ترکی النسل کہتے ہیں۔ چین کے دوسرے علاقوں کے برعکس یہاں کی تہذیب، زبان اور رسم و رواج مختلف ہیں۔ اس علاقے میں علیحدگی کی ایک تحریک بھی چل رہی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس تحریک کو امریکا اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے، جو بیجنگ پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہیں۔
تاجروں کے اس گروپ نے آج کی ملاقات پر بھی مایوسی کا اظہارکیا۔ ’’آج بھی انہوں نے صرف ہمیں تسلی دی ہے کہ ہم آپ کے مسئلے کو دیکھیں گے اور اس کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ پہلے بھی کئی بار ایسے ہی تسلیاں دیتے رہے ہیں اور آج بھی تسلیاں ہی دی ہیں۔‘‘یہ تاثرات تھے پریشان حال میر امان کے جو سنکیانگ میں پچیس برسوں سے رہ رہے ہیں اور جن کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔

میر امان نے ڈی ڈبلیو کومزید بتایا، ’’میری بیوی کو تقریباﹰ چودہ ماہ سے حراست میں لیا ہوا ہے۔ میرے بیٹے کو بھی تقریباﹰ پندرہ ماہ سے اٹھایا ہوا ہے۔ میں پچیس برسوں سے سنکیانگ میں کاروبار کر رہا ہوں اور وہاں بہت پیسہ لگایا ہے۔ ہم نے کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ جب سے میری بیوی کو حراست میں لیا ہے، میری زندگی تباہوگئی ہے۔ میرے بچے ماں کو یاد کرروتے ہیں۔ میں انہیں کیسے سمجھاؤں۔ ہماری کوئی سننے والا نہیں۔‘‘
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے حالیہ مہینوں میں انکشاف کیا تھا کہ چین نے بڑی تعداد میں سنکیانگ صوبے کے مسلمان افراد کو، جنہیں ایغور کہا جاتا ہے، حراستی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے، جہاں انہیں اشتراکی نظریات کے حوالے سے تعلیم دی جاتی ہے۔ پاکستان میں کئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی مردوں سے شادی شدہ ایسی خواتین کی تعداد دو سو کے قریب ہیں جنہیں چینی حکام نے زیر حراست رکھا ہوا ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’تقریبا دوسو ایسی خواتین جنہوں نے پاکستانی مردوں سے شادیاں کیں ہیں، انہیں چینی حکام نے اٹھا یا ہوا۔ نہ ان سے کسی کو ملنے دیا جارہا ہے اور نہ یہ بتایا جارہا ہے کہ انہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ہمارے حاکم ہماری مدد کرنے سے بالکل قاصر ہیں۔‘‘
گلگت سے ہی تعلق رکھنے والے تاجر ابرار علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سب کو معلوم ہے کہ چین نے ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ایغور لوگوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے، جس میں کئی ایسی خواتین بھی ہیں، جنہوں نے یا تو پاکستانیوں سے شادی کی ہیں، یا وہ ان خواتین کی رشتہ دار ہیں، جنہوں نے پاکستانی مردوں سے شادی کی ہوئی ہے۔ میری اپنی سالی، برادرِ نسبتی اور سالہ حراست میں ہیں۔ خوف کی وجہ سے میری بیوی مجھ سے رابطہ نہیں کر رہی۔ لیکن ہم کس کے پاس جائیں۔ پاکستانی حکومت ہمیں بے بس لگتی ہے۔ ہماری کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے۔‘‘
کئی ناقدین کا خیال ہے کہ کیونکہ چین پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس لیے پاکستان اس مسئلے پر خاموش ہے۔ تاہم حکمران جماعت پی ٹی آئی کا کہنا یہ ہے کہ حکومت کسی غیر ملکی شہری کے لیے کیسے کچھ بول سکتی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف جنوبی پنجاب کے صدر اور سابق رکنِ قومی اسمبلی اسحاق خاکوانی نے اس مسئلے پر رائے دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اگر پاکستانی مردوں کی یہ بیویاں چینی شہری ہیں، تو چین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان سے تفتیش کرے یا قانون کے مطابق نمٹے ۔ ہم کسی غیر ملکی شہری کے حوالے سے کیسے بول سکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی میرے خیال میں دفترِ خارجہ کو چینی حکام سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کرنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ان مردوں کی ان خواتین سے ملاقات کرائی جائے۔‘‘

سورس: ڈی ڈبلیو

پاکستانی حکمرانوں اور قانون ساز نمائندوں کو اس گھمبیر مسئلہ کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے موثر قانون سازی کی جائے تاکہ پاکستانی خواتین کا چائینز مردوں کے ہاتھوں استحصال نہ ہو. اور معاشرے میں اس سے ہونے والے اثرات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے .. مستقبل میں سی پیک کے حوالے سے مزید چائینز پاکستان کا سفر کریں گے اور ہمارے معاشرتی انحطاط کا باعث بنیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں